Tehsil Headquarters Hospital 290

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں طبی سہولیات کا فقدان،عملہ ڈیوٹی سے غیر حاضر،ادویات ندارد،50مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں

ڈیلائسز سنٹر میں ادویات ختم،ہسپتال کا عملہ ڈیوٹی پر بر وقت پہنچنے سے گریزاں،متعدد ڈاکٹرز اگلے روز ڈیوٹی پر آکر حاضری لگانے لگے،ہسپتال کا اللہ حافظ

ہسپتال میں ڈاکٹر ز،کنسلٹنٹ،فارما سسٹ،ایڈمن بلاک اور پیرا میدیکل سٹاف گروپ بندی کا شکار ہے،ہر گروپ دوسرے کو نیچا دکھانے کے چکر میں ہے

شہریوں نے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور ڈپٹی کمشنر ننکانہ راجہ منصور سے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال کی حالت زار کو بہتر بنانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں

سانگلاہل(ٹاپ اردو پوائنٹ تحصیل رپورٹر)کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار ہونے والے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں طبی سہولیات کا فقدان ہے،ہسپتال میں ادویات دستیاب نہیں، ہسپتال کے عملہ ڈاکٹرز اور کنسلٹنٹ،و دیگرعملہ ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے لگا،ہسپتال کو نرسنگ سٹاف کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا،ہسپتال میں دن کی ڈیوٹی میں ڈاکٹرز موجود ہوتے ہیں مگر چند ایک غیر حاضری کے بعد اگلے روز حاضری لگا لیتے ہیں،ایوننگ اور رات کی ڈیوٹی پر کوئی ڈاکٹر اور کنسلٹنٹ ڈیوتی پر نہیں آتا،ڈیوٹی روسٹر ایک ردی کاغذ کی حیثیت اختیار کر گیا ہے،مقامی انجمن تاجران اور مخیر حضرات کے تعاون سے قائم ڈائیلسز سنٹر بھی ادویات کی کمی کا شکار ہو گیاہے،ادویات نہ ہونے کی وجہ سے گردوں کے عارضہ میں مبتلاء 50مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئی ہیں،انجمن تاجران اپنی مدد آپ کے تحت ادویات کا بھی انتظام کر لیتی تھی مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے ادویات کا انتظام کرنا دشوار ہو گیا ہے،ہسپتال میں گردوں کے عارضہ میں مبتلاء مریضوں کے ہر ماہ400سیشن ہوتے ہیں،جس کیلئے لاکھوں روپے کی ادویات درکار ہوتی ہیں،،انجمن تاجران کے سرپرست اعلیٰ،ممبر ہیلتھ کونسل اورڈائیلسز سنٹر کے انچارج میاں طاہر رفیق نے بھی ڈائیلسز سنٹر کیلئے فوری طور پر سرکاری سطح پر ادویات کی فراہمی کا انتظام کرنے کا مطالبہ کردیا،ٹی ایچ کیوہسپتال کا عملہ ڈیوٹی پر بر وقت پہنچنے سے گریزاں ہے،متعدد ڈاکٹرز اگلے روز ڈیوٹی پر آکر حاضری لگانے لگے،ہسپتال کا اللہ ہی حافظ ہے،ہسپتال میں ڈاکٹرز وارڈز کا وزٹ نہیں کرتے،ڈیوٹی روسٹر کے مطابق کوئی ڈاکٹر اور دیگر عملہ ڈیوٹی نہیں کرتا،ایوننگ اور رات کی ڈیوٹی پر کوئی ڈاکٹر، کنسلٹنٹ اور فارما سسٹ ڈیوٹی پر نہیں ہوتا،ہسپتال کو نرسنگ سٹاف کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے،اپنے مریض کو فوری ”فیصل آباد لے جاؤ“،ڈاکٹرز نے ایک ہی جملہ کی رٹ لگا لی ہے،ہسپتال میں 2بجے کے بعد ڈاکٹرز اور کنسلٹنٹ غائب ہوجاتے ہیں، ڈلیوری کیسز میں بھی 2بجے کے بعد ہسپتال آنے والی خواتین کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانے پر مجبور کردیا جاتا ہے،ہسپتال کے میڈیکل سپر ٹنڈنٹ انتظامی معاملات نمٹانے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں،ہسپتال کا عملہ منہ زور ہوگیا ہے، ایم ایس کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگیا،کوئی اسکی بات نہیں سنتا،ایم ایس گریڈ17میں ہے جبکہ ڈاکٹرز اور کنسلٹنٹ گریڈ18کے ہیں اور ایم ایس سے سینئر ہیں،ایم ایس احساس کمتری کا شکار ہوکر انہیں کچھ بھی کہنے سے گریزاں ہے،معلوم ہوا ہے کہ ہسپتال میں ادویات کی مد میں ایک کروڑ روپے دستیاب ہیں جو تاحال خرچ نہیں کئے گئے،جن میں 18لاکھ روپے زکوۃ فنڈ کے ادویات کیلئے ہیں،اگر فنڈز30جون تک خرچ نہ کئے گئے تو وہ واپس جمع ہو جائیں گے،واضح رہے کہ ہسپتال میں ڈاکٹر ز،کنسلٹنٹ،فارما سسٹ،ایڈمن بلاک اور پیرا میدیکل سٹاف گروپ بندی کا شکار ہے،ہر گروپ دوسرے کو نیچا دکھانے کے چکر میں ہے اور ہسپتال کی حالت زار پر کوئی توجہ نہیں دیتا،اس ساری جنگ میں آخر کارنقصان ہسپتال کی نیک نامی اور مریضوں کا ہو رہا ہے جو کہ باعث شرمندگی ہے،شہریوں نے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور ڈپٹی کمشنر ننکانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال کی حالت زار کو بہتر بنانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں اور تجربہ کار و ذمہ دار میڈیکل سپرٹنڈنٹ تعینات کیا جائے تاکہ عوام طبی سہولیات سے استفادہ حاصل کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں