ایم کیو ایم کا سندھ میں گورنر راج لگانے کا مطالبہ 70

ایم کیو ایم کا سندھ میں گورنر راج لگانے کا مطالبہ

کراچی (ٹاپ اردو پوائنٹ) سندھ میں گورنر راج کے نفاذ کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، پاکستان تحریک انصاف سندھ کے بعد متحدہ پاکستان نے بھی صوبے میں گورنر راج لگانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے متحدہ پاکستان کے کنوینئر عامر خان نے کہا کہ صوبہ بنانے کیلئے صوبائی اسمبلی سے دوتہائی اکثریت چاہیے ہوتی ہے ،18ویں ترمیم میں صوبوں کو سارے اختیارات دے دیئے گئے، ایسی صورت میں 18ویں ترمیم میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

عامر خان نے کہا کہ ملکی سلامتی دفاعی اداروں سے جڑی ہے، دفاعی اداروں کی ضرورت صوبہ پوری کرتا ہے، ملکی سلامتی کیلئے ضروری ہے کہ وفاق فوری سندھ میں گورنر راج لگائے تاکہ ان دشمن عناصر سے چھٹکارا مل سکے۔

متحدہ پاکستان کے کنوینئر نے ایک بار پھر صوبے میں نئی مردم شماری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہرفرد کہتا ہے کہ اس شہر کی آبادی تین کروڑ سے زائد ہے مگر اسے ٹھیک طرح سے نہیں گِنا گیا، کراچی میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے لئے کم وبیش چالیس لاکھ جعلی ووٹوں کا اندراج کیا گیا، یہ 40 لاکھ ووٹ دھاندلی کیلئےاستعمال کئے جاتے ہیں، یہ پوری ایک پلاننگ ہے کوئی ماسٹر مائنڈ ہے۔

عامر خان نے مزید کہا کہ جمہوریت کے لبادے میں ملک دشمن لوگ اقتدار میں آتے ہیں، ایف آئی اے کی رپورٹ میں ہمارے دعویٰ سچ ہونے کا ثبوت ہے، 50 سے 60 فیصد تک نادرا کا عملہ کرپشن میں ملوث پایا گیا، نادرا کے عملے کی تحقیقات ہونی چاہیے، دہشتگردوں کے بھی شناختی کارڈ بنائے گئے ہیں، ایف آئی اے رپورٹ کے بعد سندھ حکومت کا کرپٹ چہرہ بےنقاب ہو چکا۔

پریس کانفرنس میں عامر خان نے مرتضیٰ وہاب کی بطور ایڈمنسٹریٹر کراچی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں سیاسی ایڈمنسٹریٹر اپنی پارٹی کو ہی فائدہ پہنچائے گا، سیاسی ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی دھاندلی کا ہی طریقہ ہے، ایک غیر جانبدار کو آدمی کو سیاسی ایڈمنسٹریٹر لگایا جائے۔ اس موقع پر رکن سندھ اسمبلی محمد حسین کا کہنا تھا کہ مرتضی وہاب کو کراچی بہتری کیلئے نہیں بلکہ بلدیاتی اداروں میں اندرون سندھ سے لائے افسران کو مضبوط کرنے کے لئے لایا جارہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں