260

سر محفل کرم اتنا میری سرکار ہو جائے

سر محفل کرم اتنا میری سرکار ہو جائے
نگاہیں منتظر رہ جائے اور دیدار ہو جائے

غلام مصطفی بن کر میں بھک جاؤں مدینے میں
محمد نام پر سودا سر بازار ہو جائے ہم تم

لپٹ کر دامن سے میں دم توڑ دوں اپنا
اگر جانا مدینے میں میرا ایک بار ہوجائے

تجسس میں تیری ہر شے سے یوں نظر جمائے ہوں
نہ جانے کون سے شہر میں تیرا دیدار ہو جائے

حبیب اس حال سے بدتر بھی حالت زار ہوجائے
جو ہونا ہو سو ہو جائے مگر دیدار ہو جائے

محمد حبیب پینٹر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں