208

سحر کا وقت ہے معصوم کلیاں مسکراتی ہے

سحر کا وقت ہے معصوم کلیاں مسکراتی ہے
ہوائی خیرمقدم کے ترانے گنگناتی ہیں

چمن میں ہر طرف شبنم کے موتی جھلملاتے ہیں
نسیم صبح کے جھونکے دلوں کو گدگداتے ہیں

خوشی کے گیت گائے جارہے ہیں آسمانوں پر
درودو کے ترانے ہیں فرشتوں کی زبانوں پر

فرشتے بہر استقبال بحر ایستادہ ہے
اشارے ہورہے ہیں گلشن جنت کے پھولوں میں

زمانے کی فضا میں انقلاب آخری آیا
نچھاور کر دیا قدرت نے سب فطرت کا سرمایہ

ابھی جبریل اترے بھی نہ تھے کعبے کے ممبر پر
کہ اتنے میں سدا آئ عبداللہ کے گھر سے

مبارک ہو ش ہے ہر دوسرا تشریف لے آئے
مبارک ہو محمد مصطفی تشریف لے آئے

ماہر القادری صاحب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں