159

انداز زندگانی کے سارے بدل کے آ

انداز زندگانی کے سارے بدل کے آ
یہ کوچۂ حبیب ہے پلکوں سے چل کے آ

اس درپہ آ غرور کو دل سے نکال کر
آتے یہاں ہیں کام عمل کب؟سنبھل کے آ

کانِ کرم ہے شہرِ مدینہ کی سر زمیں
خاک اس کی، واپسی پہ تو چہرے پہ مل کے آ

گر چاہیے تجھے بھی غلامی کی عظمتیں
اپنی انا کے خول سے باہر نکل کے آ

شہرِ رسولِ پاک میں ملحوظ رکھ ادب
حسنِ خیالِ یار کے سانچے میں ڈھل کے آ

اک امّتی کوکیوں نہ ہو اپنے نبی پہ ناز!
زاہد! ذرا حضور کے در پر مچل کے آ

محمد احمد زاہد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں