165

ایسا کوئی محبوب نہ ہوگا نہ کہیں ہے

ایسا کوئی محبوب نہ ہوگا نہ کہیں ہے
بیٹھا ہے چٹائی پر مگر عرش نشیں ہے

ملتا نہیں کیا کیا دو جہاں کو تیرے در سے
اک لفظ نہیں ہے کہ تیرے لب پہ نہیں ہے

تو چاہے تو ہر شب ہو مثال شب اسری
تیرے لیے دو چار قدم عرش بریں ہے

ہر اک کو میسر کہاں اس در کی غلامی
اس در کا تو دربان بھی جبر یل امیں ہے

دل گریہ کناں اور نظر سوئے مدینہ
اعظم تیرا انداز طلب کتنا حسیں ہے

محمد اعظم چشتی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں