200

رمضان المقدس فضائل و اعمال(قسط نمبر 7)

 ایک شخص نے رسولﷺ سے پوچھا،  شب قدر کب ہوگی،فرمایا، شب قدر گزر گئی،  لیکن ستائیسویں

رمضان کو زندہ رکھنا،کہ تو شب قدر کا ثواب پالے اور میری شفاعت سے بے نصیب نہ ہوجائے۔

            حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے پوچھا،  شب قدر کب ہوگی،  رسول نے فرمایا،رمضان کی تیرھویں رات۔میں غمناک ہو گئی۔  عرض کیا،  میں عورتوں کے  عذر کے سبب  معذور تھی۔ رسول نے فرمایا،غمناک نہ ہو،  اگر تو نے شب قدر کو نہیں پایا، توستائیسویں رات کو پا لے گی۔  جب تو اس کو زندہ رکھے گی،  تو وہ تیرے لئے توشہئ آخرت کی سند ہے۔               

            بعض محدثین کہتے ہیں،رمضان المبارک کی ہر رات میں شب قدر ایک بار ہو گی۔

امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا،  یا رسول اللہ شب قدر کب ہوگی، فرمایا،انیس تاریخ کوگذر گئی۔حضرت علی رضی ا للہ عنہ غمگین ہوئے۔ رسول نے فرمایا، آپ اکیسویں رات کو زندہ رکھیں،تاکہ شب قدر کا ثواب پالیں،کیونکہ گزشتہ سال شب قدر اسی رات تھی۔فرمایا جو کوئی اس رات کو زندہ رکھے،جس میں شب قدر تھی،وہ ایسے ہے،جیسے اس نے شب قدر کو زندہ رکھا۔   

            قال من اد رٰک لیلۃ القد ر رفع اللّٰہ قد رہ یوم القیٰمۃ ۔

            رسول نے فرمایا، جس نے لیلۃ القدرکو پا لیا، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کے درجے بلند فرما دے گا۔

            شب قدر کی نشانی۔   رسول سے   روایت کرتے ہیں، کہ  وہ رات،نہ سرد ہوگی نہ گرم،نہ لمعہ نہ سمعہ،صبح جب سورج طلوع ہوگا،اول شعاع اجماعی پُر سکون ہوگی۔عبید بن عمرؓ نے کہا،میں ستائیسویں رمضان المبارک کو دریا پر تھا،میں نے دریا کا پانی چکھا،  وہ شیریں خوشگوار ہو گیاتھا۔اس رات کسی جادوگر کا جادو کام نہیں کرتا۔   

            وقیل سمی لیلۃ القد رلانہ انزل فیہ کتٰب ذ وقد ر علٰی رسول اللّٰہ ذ ی

القد ر ولاجل امۃ ذات قد ر۔ 

            کہا گیا ہے،کہ لیلۃ القدر کو  لیلۃ القدر اس لئے کہتے ہیں،کہ اس میں  قدر والی کتاب،رسول ذی قدر پر،  قدر والی امت کے لئے نازل کی گئی۔

            اللمعۃ النورانی  میں حضرت ابوالحسن خرقانی ؒ فرماتے ہیں،کہ  رمضان المبارک میں

لیلۃ القدر کا حساب یہ ہے،کہ اگر رمضان کی پہلی تاریخ اتوار کو ہو،توشب قدر انتیسویں ۹۲کو ہو گی۔

اگر پیر کا دن ہو،تواکیسویں ۱۲کو۔اگر منگل ہوگا،تو ستائیسویں ۷۲کو۔  اگر بدھ ہوگا،توانتیسویں ۹۲ رات کو۔اگر جمعرات کا دن ہوگا،توپچیسویں کو۔اگر جمعہ ہوگا،توستائیسویں کو۔اور اگر ہفتہ ہوگا،تو تئیسویں ۳۲ رات لیلۃ القدر ہوگی۔

            اللہ تعالیٰ نے خواجہئ کائنات کو شب معراج میں کہا، السلام علیک ایھا النبی،اے نبی!  تجھ پر سلام ہو۔اور اے امتی!  اللہ تعالیٰ تجھے ہر شب قدر سلام دیتا ہے،اور  رسول نے فرمایاحق تعالیٰ ہر رات اپنے بندو ں سے،سلام اے مؤمن،  فرماتا ہے۔    

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں