311

رمضان المقدس فضائل و اعمال(قسط نمبر 6)

فضیلت لیلۃ القدر

             بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔ عن جابر بن عبداللّٰہ عن رسول اللّٰہ ﷺ انہ قال  من قام لیلۃ القد ر ایمانًا و احتسابًا غفرلہ  ما تقد م من ذنبہ ۔  

            ترجمہ۔  حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ نے فرمایاجس مسلم

 نے ایمان اور احتساب کے ساتھ شب قدر میں قیام کیا،اس کے سابقہ گناہ بخش دئیے جائیں گے،

             جو کوئی مسلمان اعتقاد و  امید کے ساتھ  شب قدر میں قیام کرے،  نوافل ادا کرے، اس کے ثواب میں اس کے  سابقہ گناہ بخش دئیے جائیں گے۔   جان لے کہ شب قدر با برکت و

با رحمت بزرگ رات ہے۔ان دوسری راتوں میں سے کوئی بھی رات  شب قدر کے درجے کو نہیں

پہنچتی۔رسول اللہ نے فرمایا،   

            ان اللّٰہ زین للیالی بلیلۃ القد ر،  و گفت،  افضل اللیالی لیلۃ القد ر۔

            اللہ تعالیٰ نے راتوں کو لیلۃ القدر سے زینت دی ہے، اور فرمایا،راتوں میں  سے افضل  لیلۃ القدر ہے۔    اور رسول نے فرمایا،  عبادت کے لئے  بہترین رات شب قدر ہے، اور  ہولناک ترین رات،قبر کی رات ہے۔  پس خوشی ہے، اس کیلئے،جو راتوں میں سے بہترین رات میں ہولناک ترین رات کیلئے کار عبادت کرلے۔ اور فرمایا،اگر تو چاہے،کہ تیری  قبر میں روشنائی یا نور ہو،توشب قدر کی تاریکی میں عبادت کر لیجئے۔ اور رسول اللہ نے فرمایا،جو کوئی(مسلمان) شب قدر کو زندہ رکھے(شب بیداری کرے)،اس کا دل مردہ نہیں ہوگا۔                                    اور فرمایا،شب قدر بہترین راتوں میں سے ہے،جو اس کو  زندہ رکھے،اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے۔ایک شخص قبر میں رکھا گیا(دفن کیا گیا)،رسول اس کی قبر پر پہنچے،اور فرمایا،اے غافل!  تو نے شب قدر میں شب بیداری کیوں نہ کی۔  اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا،مجھے اپنے عزت و جلال کی قسم!  جو (مسلم) شب قدر کی شب بیداری کرتا ہے،  روز قیامت،کم یازیادہ، دوزخ میں

نہیں جلاؤں گا۔   اور فرمایا،شب قدر کو گرامی یا بزرگ رکھئے،کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک گرامی ہے۔پس جو کوئی  شب قدر کوبزرگ رکھے،اس نے  اللہ تعالیٰ کو بزرگ رکھا۔اور جو   اللہ تعالیٰ کو بزرگ رکھے،اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی۔ ارشادات ربانی ہیں۔

۱۔  حقًا علینا ننج المؤمنینO (۳۰۱:۰۱)    ۲۔  حقا علینانصر المؤمنین O (۷۴:۰۳)

            اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بچانانا،   اور مومنوں کی مدد کرنا اپنے ذمہئ کرم پر لے لیا ہے۔

             اور فرمایا،  اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکرم رات شب قدر ہے۔اور فرمایا،جو کوئی  شب قدر میں شب بیداری کرے،اس کے لئے اس رات کی ہر گھڑی سو۰۰۱ سال کی عبادت کا ثواب ہے۔  

            جان لے،کہ حق تعالیٰ نے شب قدر کو رمضان کی راتوں میں پو شیدہ رکھا ہے،اس لئے تا کہ توماہ رمضان کی تمام راتوں کو زندہ رکھے(شب بیداری کرے)،اور دیوانہ وار اسی رات شب

قدر کو طلب کرے۔  فرمایا،رسول نے، جو (مسلمان) شب قدر کو پالے،  اللہ تعالیٰ اس کے   

  ہفت اندام(ساتوں اعضا ء،مراد پورے جسم)پر دوزخ حرام فرما دیتا ہے،  اورجو (جائز)حاجت اس رات اللہ تعالیٰ سے چاہے گا،وہ حاجت روا ہو جائے گی۔

            علماء کے نزدیک شب قدر رمضان میں غیر معین ہے،بلکہ وہ  دوسری راتوں میں گردش کرتی ہے،اس پر  مختلف اخبارو احا دیث وارد ہیں۔     ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا،میں نے رسول سے شب قدرکے بارے میں پوچھا،  فرمایا،ماہ رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔اور ابو سعید ؓنے پوچھا،تو اس کو فرمایا، اکیسویں رات  ہے۔ امیرالمؤمنین   حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا،تو فرمایا،تیسویں رات ہے،لیکن ستائیسویں رات کی اخبارو احا دیث زیادہ ہیں۔رسول

نے فرمایا،جو کوئی ستائیسویں رمضان کو زندہ رکھے،اس کیلئے جنت کا ضامن میں ہوں۔ 

            اور فرمایا، ستائیسویں ماہ رمضان کوزندہ رکھئے اور غافل نہ رہیے۔ اور جو کوئی اس رات کو زندہ رکھے، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اس کو ستّرسال کی عبادت کا ثواب ملتاہے۔  اور فرمایا،جو کوئی  ستائیسویں رمضان کو زندہ رکھے، اس کے  نامہ  ئ اعمال میں  ستائیس ہزار سال (کی عبادت) کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے،اور اس کے لئے  ستائیس ہزار قصریامحل تعمیر کئے جاتے ہیں۔  اور ہر محل میں ایسی اشیأ ہوں گی،جوکسی کے خیال میں نہ گزری ہوں۔   اور بعض محدثین فرماتے ہیں،ماہ رمضان میں رات کی فضیلت شب قدر سے ہے۔ 

            ایک شخص رسول کے پاس آیااور کہا، یا رسول اللہ شب قدر کون سی ہے،رسول

نے فرمایا،وہ رات شروع میں گزر گئی۔ وہ شخص غمناک ہوا،اور عرض کیا، یا رسول اللہ ،وہ رات مجھ سے نیند میں گزر گئی،رسول نے فرمایاستائیسویں رات کو  شب بیداری کر لیجئے، اللہ تعالیٰ جس کے قبضہ ئ قدرت میں میری جان ہے،جو کوئی ستائیسویں رمضان کو شب بیداری کر لے گا، اس کیلئے حج،عمرہ،شہید، اور غازی کا  ثواب اس کے  نامہ ئ اعمال میں ثبت ہو جائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں