187

رمضان المقدس فضائل و اعمال(قسط نمبر 5)

اعتکاف۔ چند باتیں  اعتکاف کے بارے میں بھی سن لیجئے،رسول نے فرمایا،

           من اعتکف یومًاولیلۃً من رمضان یرید بہ وجہ اللّٰہ ولا یریدبہ ریٓاءٌ وسمعۃ 

اعطا ہ اللّٰہ تعالٰی ثواب ثلٰثماءۃ شہید قتلوا فی سبیل اللّٰہ صابرین محتبسین ط    

            ترجمہ۔  جس نے رمضان میں ایک دن اور رات رضائے الٰہی کے لئے اعتکاف کیا، اور ریا کاری کے ارادہ سے نہیں،اور(قرآن مجید کی تلاوت کو) سماعت کیا،اللہ تعالیٰ اسے  تین سو شہیدوں کا ثواب عطا فرمائے گا،جو  اللہ تعالیٰ کی راہ میں صابر اورمحتسب رہے۔   

            اعتکاف سنت مؤکدہ ہے۔رسول اللہ ہمیشہ آخر رمضان میں اعتکاف بیٹھتے، ایک بار فوت اعتکاف فوت ہواتوشوال میں قضا فرمایا۔چند بار اول دہائی میں اعتکاف بیٹھے اور  چند بار آخر دہائی میں اور آخر عمر میں آخری دہائی میں اعتکاف بیٹھے، یہاں تک کہ وصال ہو گیا۔ اور فرمایا،

جو اللہ تعالی کے لئے ایک روز اعتکاف بیٹھے،تو اللہ تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندق

حائل فرما دے گا،ہر خندق پانچ سو سال کی راہ کی ہوگی۔ علما  ئکہتے ہیں اعتکاف بیٹھنے والا، اللہ تعالیٰ کا در پکڑنے والا ہے،  یعنی میں یہ در نہیں چھوڑوں گا،جب تک میری (مغفرت کی)حاجت پوری نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کریم(ہر سخی سے بڑھ کر سخی) ہے جس نے اس کا در پکڑ لیا،اس کو محروم نہیں لوٹایاجاتا،  اور اعتکاف کے دوران عورت کے پاس  (ملاقات یا مباشرت کے لئے)  نہ جائے۔   جیسا کہ

             اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔    و لا  تباشروھن  وانتم  عاکفون  فی المساجد ط  

(۷۸۱:۲)،    المباشرۃ  ھو القبلۃ  واللمس و الجماع عامدًا و ناسیًا ۔ جب تم مسجد میں اعتکاف کر رہے ہو تو مباشرت نہ کرو۔ مباشرت ارادہ سے یا سہو سے بوسہ و لمس اور جماع ہے،

            جب تو اعتکاف بیٹھے،تو  خود کومردہ تصور کرے،  اور ہر چیز پر تصرف کوتاہ کرے۔ا ور بے حاجت مسجد سے باہر نہ آئے،کہ (اس سے)اعتکاف باطل ہو جائے گا،سوائے حاجت انسانی یاحاجت شرعی کے،جیسا کہ نماز جنازہ اور نمازجمعہ کے مسجد سے باہر نہ آئے۔ اعتکاف مسجد کے بغیر جائز نہیں مسجد جمعہ میں اعتکاف بیٹھنا بہتر ہے۔عور ت اس جگہ اعتکاف بیٹھے جہاں نماز ادا کر سکے، اعتکاف میں خاموش رہنا مکروہ ہے۔ تلاوت قرآن مجیداور ذکر الٰہی میں مشغول رہے۔  اگر گھریلو (غیر جاندار)سامان میں سے کسی کی خریدو فروخت کی حاجت ہو، تومسجد میں (ہی)کرے، اور وہ سامان مسجد میں حاضر نہ کرے، کہ گنہگارہو جائے گا۔  واللّٰہ اعلم بالصواب۔  

            یاد رہے،کہ مسجد وہ جگہ ہے،جہاں سجدہ کیا جائے،طہارت خانہ اور وضو گاہ مسجد کی حدودمیں شامل نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں