220

رمضان المقدس فضائل و اعمال(قسط نمبر 4)

            رسول اللہ نے فرمایا، یہودیوں کی مخالفت میں سحری کھائیے، وہ سحری نہیں کھا تے،

جو کوئی(مسلمان)سحری کھائے، ہر یہودی کے شمار کے مطابق  غلام آزاد کرنے کا ثواب اس کے نامہئ اعمال میں ثبت ہو جائے گا۔     اور فرمایا سحری کیجئے، ہر نعمت جو وہ کھائے گا،  اس کاحساب

 نہیں ہوگا۔    فرمایا،سحری کھائیے،اور ترازو کو بھاری کر لیجئے،یعنی  ہر وہ چیز جو وہ اس ماہ رمضان میں سحری میں کھائے گا،اس کو ترازو (میں نیک اعمال کے پلڑے)میں ڈالا جائے گا۔   اور فرمایا،

سحری کیجئے اور دوزخ کو اپنے اوپر سرد کر لیجئے۔   اور فرمایا جب سحری کے لئے بیدار ہو تو کہے، 

          یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَۃ ۔   اے وسیع مغفرت والے۔  تا کہ تمہارے گناہ ختم ہو جائیں،

            اور فرمایا،جو کوئی سحری کرے، اس کے ہر لقمہ کے عوض ایک سال کی عبادت لکھی جائے گی، اور جو کوئی سحری میں ایک لقمہ کھاتا ہے،اس کے   نامہئ اعمال میں بیس سال(کی عبادت)کا

ثواب لکھ دیتے ہیں۔ جو دو لقمے کھاتا ہے،چالیس سال کی عبادت کا ثواب پاتا ہے۔   اور جو کوئی

تین لقمے کھاتا ہے،(اس کے لئے)ساٹھ سال کی عبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ 

            فضیلت تراویح۔   فضیلت تراویح میں بھی چند کلمات سن لیجئے۔ 

            جب اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان بھیجاتو اس میں مسلمانوں کے لئے فضل و احسان رکھے،

            حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا،  ہم نے اس نعمت کے شکرانہ پر بیس رکعت اپنے اوپر

لازم کر لی۔صحابہ کرام ؓنے پسند فرمایا۔رسول آئے، تو رسول نے بھی پسند فرمایا۔  جبرائیل علیہ السلام آئے تو کہا،اللہ تعالیٰ نے عمرؓ سے اور آپ کے صحابہؓ سے یہ اطاعت (و عبادت) قبول فرمالی، اور وعدہ فرمایا،کہ ہر   ختم قرآن مجید پڑھنے والے کوجنت میں اپنی خوشنودی سے اپنے دیدار سے مشرف فرمائے گا۔  اے مؤمن!  جان لے کہ تراویح سنت ہے،اور اس میں ختم قرآن بھی  سنت ہے۔  رسول اللہ نے چند راتیں تراویح گزاری ہیں، پھر بند یا ترک فرمادیں،اس خدشہ سے کہ نہیں چاہتے،ہم (امت)پر فرض ہو جائے۔ 

            رکعات تراویح۔    علمائے کرام(احناف)کے نزدیک  تراویح بیس رکعت ہے۔  امام مالک رحمۃاللہ علیہ کے نزدیک چھتیس رکعت ہے۔  رسول اللہ نے فرمایا،   

            ان اللّٰہ فرض علیکم صیامہ وسن قیا مہ۔

            ترجمہ۔  اللہ تعالیٰ نے تم پر روزے فرض کئے، اور  قیام اللیل کو  سنت قراردیا۔  

            چنانچہ روزہئ رمضان فرض ہے،  اور رات کو قیام اللیل  (تراویح)سنت ہے۔  اور اسی طرح  قیام شب  ادا کرنا،بیس رکعت ہے۔  اور اس میں ختم قرآن  پڑھنا سنت ہے۔  یا(گر ختم قرآن مجید نہ کر سکے،توتراویح کی)  ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص تین بارپڑھے۔

یاہر رکعت میں  سورۃ فاتحہ کے بعد  دس آیات، جو  قرآن مجیدمیں سے یادہوں، تلاوت کرے۔

چنانچہ سورۃ الفیل   الم ترکیف  سے آخر سورہ   قرآن مجیدتک (دس سورتیں)دو با رپڑھ لے۔  بیشتر علمأ کے نزدیک تراویح کا محاسبہ نہیں ہوگا۔ فرمایا، گویا  سنت تراویح کی بجائے نفل ادا کرنے والاکا  کل قیامت کو مواخذہ ہوگا۔    

            اے مؤمن!  اگر تو ختم قرآن مجید نہیں کر سکتا تھا، تو  ہر رکعت میں تین بار سورۃ اخلاص 

پڑھ لیتا۔   ابن عباس رضی اللہ عنھمانے کہا،کہ رسول نے فرمایا،   بیس رکعت بعد عشأ   اور

۰وتر سے پہلے ماہ رمضان میں تراویح ادا کرے۔   اور فرمایا، جو بیس رکعت (با جماعت)ادا کرے،

تو امام کو جنت میں ایک محل عطا ہوگا۔ہر محل کی  وسعت ایک ماہ کا سفر،  ہر ماہ تیس روز کا ہوگا،اور ہر روز ہزار سال کاہوگا۔ 

             اور فرمایا جو ماہ رمضان میں بیس ۰۲رکعت تراویح ادا کرے، اس کے بیس ہزار گناہ بخش دئیے جائیں گے۔    اور وتر صرف ماہ رمضان میں با جماعت گزارے،اور تراویح بھی با جماعت ادا کرے۔  چنانچہ تراویح مردوں پر سنت ہے،اور عورتوں پر بھی سنت ہے۔  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں