277

رمضان المقدس فضائل و اعمال(قسط نمبر 1)

مرتبہ : محمد خلیل مجددی سا نگلہ ہل

اعوذ باللّٰہ من الشیطین الرجیم O  بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم O

رب یسر ولا تعسر و تمم  بالخیر

رمضان المقدس

حدیث۔   عن ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ عن رسول اللّٰہ ﷺ انہ قال من صام رمضان من اولہٖ الٰی اٰخرہٖ خرج من ذ نوبہ کیوم  ولدتہ امہ۔

             حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ نے فرمایا، جس نے رمضان المبارک کے روزے اول سے آخر تک رکھے، وہ اپنے گناہوں سے ایسے خارج ہو گیا،گویا

گویا آج ہی وہ اپنی ماں سے پیدا ہوا ہے۔ ابن مسعود ؓ کا نام عبداللہ ہے۔  یہ حدیث اس عظیم صحابی سے مروی ہے جو صحابہ کرامؓ کے درمیان فقیہ وزاہد رہا،زیادہ سجدوں میں زندگی گزار دی، یہاں تک کہ رسول اللہنے ان کے متعلق فرمایا،   لقد تحیرالملٰئکۃ من سجود ابن مسعودؓ۔    فرشتے بھی ابن مسعود ؓ کے سجدوں سے حیران رہ گئے۔

جان لے اے مؤمن!  ماہ رمضان وہ معظم مہینہ ہے، کہ  حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مناجات کی، الٰہی!  حضرت محمد رسول اللہ کی امت کو کس مہینے کا فرمان ہوا ہے، فرمایا،میں نے ان کو ماہ رمضان کا حکم دیا ہے۔ پوچھا،اس میں کیافضیلت ہے؟   اللہ تعالیٰ نے فرمایا،  ماہ رمضان کی فضیلت دوسرے مہینوں پر ایسی ہے،  جیسے میری تمام بندوں پر فضیلت ہے۔ جو کوئی اس ماہ میں سے ایک روزہ رکھے گا،  انسانوں اور جنوں کی عباد ت کے برابر ثواب اسکے  نامہئ اعما ل میں لکھ دیا جائے گا،حضرت موسٰی علیہ السلام نے تمنا ظاہرکی،  یا اللہ!  مجھے بھی اس امت میں سے کردے۔

سہل بن سعدؓ سے روایت ہے،کہ رسول نے فرمایا، جنت کا ایک دروازہ ہے،جس کا نام ریان ہے،جس سے امت مصطفے کے وہ لوگ داخل ہوں گے،جنہوں نے رمضان میں روزے رکھے ہیں۔ندا دی جائے گی،کہاں ہیں  ماہ رمضان کے روزے رکھنے والے،اور ذکر الٰہی کر نے والے،وہ اس دروازے سے داخل ہوں۔  وہ لوگ اٹھ کر داخل ہوں گے۔  جب وہ اس

دروازہ سے گزر جائیں گے،تو وہ دروازہ بند ہو جائیگا۔پھر اس میں کوئی داخل نہیں ہو سکے گا      رسول نے فرمایا،اگر میری امت کو رمضان المبار ک کی فضیلت معلوم ہو جائے،تو

میری امت تمنا کرتی کہ سارا سال رمضان ہی ہوتا،اسلئے کہ روزہ دار کی نیند بھی عبادت ہے،اس

 کی ہر سانس تسبیح،اور اس کے ہر نیک عمل کی جزاکئی گنا بڑھ جاتی ہے،پس جس نے شروع سے آخر تک رمضان کے روزے رکھے وہ گناہوں سے ایسا پاک ہو گیاجیسے ابھی اس کی ماں نے جنا ہے۔

روایت ہے،کہ روزہ داروں کے سامنے،قیامت کے دن عرش کے نیچے ایک خوان رکھا جائیگا جس میں قسم قسم کے کھانے ہوں گے،یہ اس سے کھائیں گے اور لوگ حساب کتاب میں ہوں

گے۔دیکھنے والوں کو تعجب ہو گا،پھر پوچھیں گے،یہ کون لوگ ہیں جوکھا پی رہے ہیں،اورہم حساب میں ہیں۔جواب دیا جائیگاکہ یہ لوگ رمضان میں روزے رکھتے تھے،اور تم روزے کھاتے تھے۔

            حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔  (ترجمہ)

            رسول    ماہ رمضان سے قبل کھڑے ہوئے،  اور  صحابہ کرام ؓسے خطاب فرمایا،

تمہارے پاس ماہ رمضان آیا ہے۔ اس میں  اپنے کپڑے یا  لباس ستھرے کر لیجئے، اس کی حرمت کی تعظیم کیجئے۔ یقینًااللہ تعالیٰ کے نزدیک  اس کی حرمت  اعظم الحرمات میں سے ہے۔ کیا تم نہیں سمجھتے کہ اس میں نیکیاں اور برائیاں  (جزا و سزا کے درجے میں)  کئی گنا بڑھ جاتی ہیں،اس میں نمازیں کثرت سے ادا کیجئے،  اور تلاوت قرآن سے آباد کیجئے   یقینًا جو مسلم قرآن مجید کی ظاہری و باطنی طور پر تلاوت کرے اللہ تعالیٰ ہر حرف کے بدلے بدلے اسے جنت کے باغوں میں ایک باغ عطا فرما دیتا ہے اس میں درخت،  دنیا کے درختوں سے زیادہ ہوں گے،  جو قیامت تک اللہ تعالیٰ پیدا نے فرمادئیے۔ جنت کے ہر درخت کے پتے دنیا کے درختوں کے پتوں سے زیادہ ہوں گے۔

ان میں ہر پتے پر   ایک فرشتہ ہوگا،جو اپنے صاحب کیلئے قیامت تک مغفرت طلب کرتا رہے گا۔ جو کوئی مسلم ماہ رمضان کے روزوں میں سے،  ایک روزہ رضائے الٰہی کیلئے رکھے گا، وہ ایسے ہے، جیسے اس نے چھ لاکھ غلام آزاد کئے، چھ لاکھ اونٹ قربان کئے،  اورخود کو  آخرت میں سے چھ لاکھ سالوں کے لئے اللہ تعالیٰ کا پابند کیا۔

            جان لے،  کہ روزہ  تین وجہ سے ہے۔  حضرت خواجہ مظفر کہستانی رحمۃ اللہ علیہ کے

نزدیک،  روح کا روزہ کوتاہ کرنا امیدوں کو،  عقل کا روزہ ہے،خلاف کرنا سو ء عمل کے، اور نفس کا روزہ ہے،کھانا پینا اور شہوتوں کو روک کرحرص کو کم کرنا ہے۔  اور رسول اللہ نے فرمایا،

               الصوم  نصف الصبر و الصبر نصف الایمان ۔

روزہ نصف صبر ہے، اور صبر نصف ایمان ہے۔    حضرت شیخ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا،                     الصوم  نصف  الطریقۃ ۔  روزہ  نصف  طریقت و  تصوف ہے۔

            اشتہأ یا بھوک۔    روزہ کا اہم جزو  بھوک ہے۔ اوربھوک تزکیہ یا صفائی پیدا کرتی ہے لیکن متابعت رسول کے طریق سے،بصورت دیگر اس میں ضرر کا امکان زیادہ موجودہے۔   

            حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں۔   (ترجمہ)

            کثرت جوع(بھوک)بے شک صفائی بخش  ہے۔ ایک گروہ کو قلب کی صفائی حاصل ہوتی ہے،  اور دوسرے گروہوں کونفس کی صفائی۔   قلب کی صفائی،ہدایت اور نور میں اضافہ کرتی ہے،اور نفس کی صفائی گمراہی اور تاریکی میں اضافہ کرتی ہے۔

فلاسفہ یونان،اور  ہندوستان کے جوگیوں،  برہمنوں سب کو بھوک کی  ریاضت نے،

صفائی نفس عطا کی،اور گمراہی و نقصان کا راستہ دکھایا۔ بے عقل افلاطون نے اپنی صفائی نفس پر اعتماد کرتے ہوئے،خیالی اور کشفی صورتوں کو پیشوا ٹھہرایا،  اور خود بینی اختیار کی۔  اور حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام پر،جو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسولِ بر حق تھے،ایمان نہ لایا، اور کہنے لگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

4 تبصرے “رمضان المقدس فضائل و اعمال(قسط نمبر 1)

اپنا تبصرہ بھیجیں