Hazrat Mujaddid Alaf Sani (R) 212

حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی رضی اللہ عنہ کی تعلیمات اور ان کی عصری معنویت

(یوم ولادت: 14/ شوّال

اکبری فتنہ اپنی نوعیت کا انوکھا فتنہ تھا، جس کا سامنا ابھی تک مسلمانوں نے نہیں کیا تھا۔ یہ کوئی صلیبی حملہ یا صیہونی شازش نہیں تھی، یہ اندرون خانہ پیدا ہونے والی ریشہ دوانی تھی، جسے بھڑکانے میں ابو الفضل، فیضی اور ملا مبارک جیسے علماے سو نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ یہ فتنہ 990 ہجری میں ”دین الٰہی“ کے نفاذ کے ساتھ اپنے شباب کو پہنچ گیا؛ لیکن کہتے ہیں نا! ”ہر فرعونے را موسٰی“، اس فتنے کی سوکوبی اور سرمایہ اسلام کی حفاظت کے لئے، پہلے ہی مشیت خداوندی نے ایک مرد قلندر تیار رکھا تھا۔

وہ ہند میں سرمایئہ ملت کا نگہبان
اللہ نے بر وقت کیا جس کو خبر دار

حضرت امام ربانی، شیخ احمد فاروقی سرہندی علیہ الرحمہ (971ھ__1034ھ) کی پیدائش:

حضرت امام ربانی، شیخ احمد فاروقی سرہندی علیہ الرحمہ (971ھ_1034ھ) کی پیدائش14/ شوال، 971 ھ کو سرہند میں ہوئی۔ نام ”احمد“ اور کنیت ”ابو البرکات“ ہے۔ ”قیوم اول/زماں“، ”بدر الدین“، ”محبوب صمدانی“،”خزانہ رحمت“، ”مجدد الف ثانی“ اور ”امام ربانی“ جیسے القاب سے یاد کیے جاتے ہیں۔ نسبی سلسلہ 27 واسطوں سے فاتح اعظم، امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ تک جا کے ملتا ہے۔ سنی، حنفی مسلم اور مشربا نقشبندی تھے۔ کئی خارق عادت کرامتیں ظاہر ہوئیں۔ اصلاح امت میں پوری حیات طیبہ صرف کری، کتابیں بھی تصنیف کیں؛ لیکن اصل اور تجدیدی کارنامہ وہ ”مکتوبات“ ہیں، جنھیں آپ نے اکابر امت، اراکین سلطنت اور شاگردوں کے نام لکھے۔ پروفیسر مسعود احمد مجددی صاحب علیہ الرحمہ ”مکتوبات“ کا ان لفظوں میں تعارف کراتے ہیں: ”آپ کے مکتوبات شریفہ تقریبا دوسو مختلف اکابر امت اور اراکین سلطنت کے نام ہیں۔ 536 مکتوبات پر مشتمل اور فل اسکیپ سائز کے 1300 صفحات کے تین دفاتردار المعرفة، نور الخلائق اور معرفة الحقائق پر مشتمل ہے“۔ (سیرت مجدد، 118) آپ کے مکتوبات اور کتابوں کے اسرار و رموز اور آپ کی تعلیمات نے ہر زمانے میں، اسلام کے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے۔

شیخ مجدد الف ثانی کی تعلیمات:

مکتوبات کے تینوں دفتر علمی و اصلاحی جواہر پاروں سے بکھرے ہیں۔ چند ایک پیش کیے جاتے ہیں۔

اہل توحید کی پہچان:

”کامل توحید پرست لوگ پسندیدہ امور کو چھوڑ کر، اللہ تعالی کے غضب میں آئے ہوئے امور کی طرف توجہ نہیں کرتے اور لقمئہ تر کے بدلے اپنے ایمان کا سودا نہیں کرتے، عمدہ اور خوش نما لباس کے بدلے غلامی کا عیب قبول نہیں کرتے“۔ (دفتر اول، مکتوب، 174)

سجدہ تعظیمی کی ممانعت:

سجدہ تعظیمی کی رسم چند حلقوں میں آج بھی رائج ہے۔ اس تعلق سے حضرت امام ربانی علیہ الرحمہ، حضرت نظام تھانیسری علیہ الرحمہ کو لکھے ایک مکتوب میں اس طرح اصلاح فرماتے ہیں: ”با وثوق ذریعے سے خبر ملی ہے کہ آپ کے بعض خلفا کو مریدین سجدہ کرتے ہیں، صرف زمیں بوسی پر کفایت نہیں کرتے۔ اس فعل کی برائی سورج سے زیادہ روشن ہے۔ ان کو سختی سے منع کریں اور تاکید کریں کہ اس قسم کی برائیوں سے بچیں!“۔ (دفتر اول، مکتوب، 29)

صحابہ میں افضلیت کی ترتیب وہی ہے، جو خلافت کی ہے:

افضیلت کا مسئلہ اتنا سنگین نہیں ہے، جتنا اسے بنایا گیا ہے۔ واضح دلائل اور شواہد موجود ہونے کے باوجود اسے بار بار اچھالا جاتا ہے۔ حضرت امام لکھتے ہیں: ”حضرت خاتم الرسل ﷺ کے بعد امام بر حق اور خلیفہ مطلق حضرت ابو بکر صدیق تھے، ان کے بعد حضرت عمر فاروق، پھر حضرت عثمان ذو النورین، ان کے بعد حضرت علی ابن ابو طالب۔ رضی اللہ تعالی عنھم۔ ان کی افضلیت ان کی خلافت کی ترتیب کے لحاظ سے ہے۔ حضرات شیخین کی افضلیت صحابہ و تابعین کی اجماع سے ثابت ہے“۔ (دفتر دوم، مکتوب، 67)

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ امام عادل تھے:

”اور یہ جو بعض فقہا کی عبارتوں میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لئے ”جور“ کا لفظ آیا ہے، اس سے یہ مراد ہے کہ حضرت علی کے زمانہ خلافت میں امیر معاویہ خلافت کے حق دار نہیں تھے۔ یہاں وہ مراد نہیں جس کا انجام فسق و ضلالت ہے……وہ امام عادل تھے“۔ (دفتر اول، مکتوب، 251)

اتباع سنت رسول ﷺ کا جذبہ:

آج لوگ سنتوں کو غیر ضروری سمجھ کر اس سے لا پروائی برتتے ہیں۔ حضرت امام کے عقیدت مند مندرجہ ذیل عبارت کو بار بار پڑھیں اور عبرت حاصل کریں! ”اب اس کے سوا اور کوئی آرزو باقی نہیں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی کوئی سنت زندہ کی جائے“۔ (دفتر اول، مکتوب، 37)

بدعت کی تقسیم:

”علما نے کہا ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں: بدعت حسنہ اور بدعت سیّئہ۔ بدعت حسنہ اس عمل کو کہتے ہیں، جو آں حضرت ﷺ اور خلفاے راشدین کے زمانے کے بعد پیدا ہوا ہے اور وہ کسی سنت کو رفع نہ کرے۔ اور بدعت سیّئہ وہ بدعت ہے جو سنت کی رافع (اٹھانے والی) ہو“۔ (دفتر اول، مکتوب، 186)

نفلی عبادات:

آج یہ رسم چل پڑی ہے کہ لوگ جلسے کراکر دین کے اصلی مجاہد بن جاتے ہیں، فضیلت والی راتوں میں شب بیداری کرکے ولی اللہ ہوجاتے ہیں، غریبوں میں دو کمبل دے کر یا کبھی دو لوگوں کو کھانے کھلاکر یا کبھی پیکیٹ تقسیم کر کے پارسا بن بیٹھتے ہیں اور فرائض بالاے طاق۔ اس تعلق سے حضرت امام لکھتے ہیں: ”فرض کی اداے گی میں بڑی کوشش کرنی چاہیے۔ نفلی عبادتوں کو فرائض کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں۔ اس زمانے کے اکثر لوگ نوافل کو رواج یتے ہیں اور فرائض کو فراموش کر جاتے ہیں“۔ (دفتر دوم، مکتوب، 82)

علمی قحط الرجال اور جہالت کے شور شرابے کے اس دور میں تعلیمات مجددیہ کی شدت سے ضروت محسوس ہو رہی ہے۔ پروفیسر محمد اسحاق قریشی صاحب نے بڑے پتے کی بات لکھی ہے: ”آج علمی مغالطوں کو امام ربانی کی صداقت فکر چاہیے، آج صوفیانہ کج روی کو راہ راست دکھانے والا فقر فاروقی کا علم بردار چاہیے۔ الجھن وہی ہے، سلجھن کا طریقہ بھی وہی ہے کہ یہ انداز تربیت و اصلاح آزمودہ بھی اور نتیجہ خیز بھی، ضرورت ہے کہ تعلیمات مجددیہ کو عام کیا جائے، مکتوبات کے مطالعے کو نصاب تربیت بنایا جائے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ تصوف کے حوالے تو بہت ہیں، خانقاہوں کی بھی کثرت ہے، گدی نشینوں کے جھگڑے بھی عام ہیں، مزارات کا ظاہری حسن بھی نظر کو خیرہ کرتا ہے؛ لیکن کیا لوگ پتھر دیکھنے آتے ہیں!

وہ تو ان اصحاب نظر کے شیدائی ہیں، جو زیر زمیں ہوکر بھی فیوض و برکات تقسیم کر رہے ہیں۔ کشف المحجوب ہو، عوارف المعارف ہو یا پھر مکتوبات امام ربانی، یہ وہ سرمایہ تصوف ہیں، جن پر توجُہ کی ضروت ہے“۔ (باقیات جہان امام ربانی: 1/81)

طالب دعا: محمد یٰسین ملک امیر ادارۃ المصطفےٰ حلقہ سانگلہ ہل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں