police station Sangla Hill 50

سانگلاہل تھانہ سٹی پولیس نے اپنے مطالبات کے حق میں پر امن احتجاج کر نے والے طلباء پر دھاوا بول دیا

احتجاج کرنے والے طلباء تو نہ پکڑے گئے کالج سے گھروں کو جانے والے درجن سے زیادہ بیگناہ طلبہ کو گرفتار کر لیا

معصوم بچوں سے عادی مجرمان والا رویہ اپنایا گیا،طلبا کو گرفتار ملزمان کو7گھنٹے تک حوالات میں بند رکھا گیا،والدین کی مذمت

سانگلاہل(ٹاپ اردو پوائنٹ تحصیل رپورٹر) تھانہ سٹی پولیس نے اپنے مطالبات کے حق میں پر امن احتجاج کر نے والے طلباء پر دھاوا بول دیا، احتجاج کرنے والے طلباء تو نہ پکڑے گئے مگر پولیس نے کارروائی ڈالنے کیلئے کالج سے اپنے گھروں کو جانے والے درجن سے زائد طلبہ کو مختلف جگہوں سے گرفتار کر لیا،پولیس کی طرف سے طلباء سے عادی مجرمان والا رویہ اپنایا گیا،طلبا کو گرفتار ملزمان کو7گھنٹے تک حوالات میں بند رکھا گیا،جس کی طلباء کے والدین نے شدید مذمت کی، گرفتار طلبہ کے پیچھے آنے والے ورثاء سے بھی توہین آمیز سکول کیا گیا،ڈی پی او ننکانہ کے حکم پر 7گھنٹے بعد طلباء کو چھوڑا گیا،بتایا گیا ہے کہ نجی کالج کے طلباء آن لائن امتحان کیخلاف و دیگر اپنے مطالبات کیلئے رضا چوک میں پر امن احتجاج کر رہے تھے، اسی دوران تھانہ سٹی کی پولیس نے ان پر دھاوا بوول دیا،طلباء خوفزدہ ہوکر بھاگ گئے،پھر پولیس نے مختلف جگہوں سے درجن بھر طلباء کو پکڑ لیا،طلباء کا کہنا ہے کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں طلبہ نے اپنے مطالبات کے حق میں پر امن احتجاج کئے ہیں لیکن کسی بھی جگہ پر پولیس نے انہیں گرفتار نہیں کیا، صرف سانگلا ہل سٹی پولیس نے ہی طلبہ کو گرفتار کیا،ادھر طلباء کے والدین کا کہنا ہے کہ شہر میں آئے روز موٹر سائیکل چوری کی وارداتیں ہوتی ہیں جس کے باعث شہری اپنی قیمتی موٹر سائیکلوں سے محروم ہو جاتے ہیں، اس پر تو پولیس کوئی ایکشن نہیں لے رہی لیکن چند بچوں کو پکڑ کر انکے ساتھ ہتک آمیز سلوک کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں