Chaudhry Burjis Tahir 330

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کے اجلاس،برجیس طاہرنے اپنے کا سوئی گیس کا معاملہ پیش کردیا

کمیٹی نے سفارش کی کہ نئے علاقوں کو 300 نئے گیس کنکشن دیئے جائیں،کمیٹی نے ترجیحی بنیاد پر گیس کی قلت کو دور کرنے کی ہدایت کی

سانگلاہل(ٹاپ اردو پوائنٹ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کے اجلاس میں قومی اسمبلی کے حلقہ 117سے مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی،سابق وفاقی وزیر امور کشمیر،گلگت بلتستان چوہدری محمد برجیس طاہر نے اپنے حلقہ این اے117 میں مسائل سانگلا ہل، منڈی مڑھ بلوچاں، شاہ کوٹ، ولی پور بوڑا، پنواں، واربر ٹن اور دیگر ڈیرہ جات، چکوک/دیہات میں گیس پریشر میں کمی، نئے کنکشن کی فراہمی، مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں جاری منصوبہ جات میں تاخیر کا معاملہ اٹھا دیا،جس پرکمیٹی نے سفارش کی کہ نئے علاقوں کو 300 نئے گیس کنکشن دیئے جائیں،سکریٹری پٹرولیم نے اراکین اسمبلی کی نامکمل ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے رپور ٹ پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی، کمیٹی نے ملک کے مختلف علاقوں میں گیس کی قلت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کو ترجیحی بنیاد پر گیس کی قلت کو دور کرنے کی ہدایت کی،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کا اجلاس رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عمران خٹک کی زیر صدارت ہوا، کمیٹی نے ہائیڈرو کاربن ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان (ترمیمی) بل 2019ء کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا،اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب،کمیٹی ارکان جنید اکبر، ملک انور تاج، چودھری عامر سلطان چیمہ، سردار طالب حسین نکء، چوہدری خالد جاوید، خرم دستگیر خان، چوہدری محمد برجیس طاہر، سردار محمد عرفان ڈوگر، میاں ریاض حسین پیرزادہ، مہر ارشاد احمد خان، شازیہ مری، زاہد اکرم درانی، غوث بخش خان مہر اور بلز کے محرکین امجد علی خان نیازی، ایم این اے شوکت علی بھٹی، ایم این اے خیال زمان، ایم این اے سیّد آغا رفیع اللہ، ایم این اے اور سیکرٹری وزارت پٹرولیم اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں