hazrat-mujaddid-alaf-sani-r 316

حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی رضی اللہ عنہ

(یوم ولادت: 14/ شوّال)

حاضِر ہُوا میں شیخِ مجدّدؒ کی لحَد پر
وہ خاک کہِ ہے زیرِ فلک مطلعِ انوار
اس خاک کے ذرّوں سے ہیں شرمندہ ستارے
اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحبِ اسرار
گردن نہ جھُکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفَسِ گرم سے ہے گرمیِ احرار
وہ ہِند میں سرمایۂ ملّت کا نِگہباں
اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار

سلاسل صوفیہ میں فالوورز کے حساب سے سب سے بڑا سلسلہ “سلسلہ نقشبندیہ” کے مشہور و معروف شاخ “سلسلہ مجددیہ” کے بانی امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی نقشبندی علیہ الرحمہ کی ولادت با سعادت جمعہ کے دن 14 شوال 971 ھ (26 مئی 1564ء) کو نصف شب کے بعد سرہند شریف ( پنجاب : ہندوستان ) میں ہوئی۔ مجدد الف ثانی رحمه الله کے والد شیخ عبد الاحد سرہندی رحمه الله ایک ممتاز عالم دین اور صوفی تھے۔

امام مجدد الف ثانی رحمه الله نے قرآن حفظ کر کے اپنے والد سے علوم متداولہ حاصل کیا پھر سیالکوٹ جا کر مولانا کمال الدیّن کشمیری رحمه الله سے معقولات کی تکمیل کی اور اکابر محدثّین سے فن حدیث حاصل کیا۔ آپ سترہ سال کی عمر میں تمام مراحل تعلیم سے فارغ ہو کر درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ تصوف میں سلسلہ چشتیہ کی تعلیم اپنے والد سے پائی۔ سلسلہ قادریہ اور سلسلہ نقشبندیہ کی تعلیم دہلی جاکر خواجہ باقی باللہ رحمه الله سے حاصل کی۔

امام مجدد الف ثانی رحمه الله کے علم و بزرگی کی شہرت اس قدر پھیلی کہ روم، شام، ماوراء النہر اور افغانستان وغیرہ تمام عالم اسلام کے مشائخ علماء اور ارادتمند آکر آپ سے مستفید و مستفیض ہوتے۔ یہاں تک کہ آپ ’’مجدد الف ثانی ‘‘ کے خطاب سے یاد کیے جانے لگے۔ “مجدد الف ثانی” کا خطاب سب سے پہلے آپ کے لیے شیخ عبدالحکیم سیالکوٹی رحمه الله نے استعمال کیا۔

امام مجدد الف ثانی رحمه الله کے بیٹے اور بیٹیوں کے نام یہ ہیں۔

بیٹے:

◾خواجہ محمد صادق رحمه الله
◾خواجہ محمد سعید رحمه الله
◾خواجہ محمد معصوم رحمه الله
◾خواجہ محمد فرخ رحمه الله
◾خواجہ محمد عیسیٰ رحمه الله
◾خواجہ محمد اشرف رحمه الله
◾خواجہ محمد یحیی رحمه الله

بیٹیاں:

◾بی بی رقیہ بانو رحمها الله
◾بی بی خدیجہ بانو رحمها الله
◾بی بی ام کلثوم رحمها الله\

ہزاروں لوگوں نے مجدد الف ثانی رحمه الله کے دست اقدس پر بیعت و خلافت کا شرف حاصل کیا۔ تقریبا نو لاکھ لوگ آپ کے مرید تھے اور آپ کے خلفاء کی تعداد پانچ ہزار کے آس پاس ہے، آپ کے چند خلفاء کے نام یہ ہیں۔

◾الحاج خضر خان افغان بہلول پوری رحمه الله
◾خواجہ ہاشم برہانپوری رحمه الله
◾شیخ بدیع الدین سہارنپوری رحمه الله
◾شیخ عبد الہادی فاروقی بدایونی رحمه الله
◾شیخ عیسی مغربی محدث رحمه الل
◾شیخ حمید بنگالی رحمه الله
◾سید مبارک شاہ بخاری رحمه الله
◾شیخ طاہر لاہوری رحمه الله
◾مولانا محمد یوسف سمرقندی رحمه الله
◾میر محمد نعمان اکبرآبادی رحمه الله
◾مولانا صفر احمد رومی حنفی رحمه الله
◾مولانا یار محمد قدیم بخشی طالقانی رحمه الله
◾مولانا صادق کابلی
◾شیخ عثمان یمنی شافعی رحمه الله
◾شیخ علی المحقق مالکی مدنی رحمه الله

امام مجدد الف ثانی رحمه الله کا وصال منگل کے دن 28 صفر 1034ھ (10 دسمبر 1624ء) کو سر ہند میں ہوا۔ آپ کا مزار شریف سرہند شریف میں ہے۔

طالب دعا:قاری محمد بلال مدنی مجددی خطیب جامع مسجد حیات الاسلام سانگلہ ہل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں