Dr. Arshad Mahmood 222

پیغام محبت

صف اوّل کے مجاہد

          ہرن چوکڑیاں بھرتا ھوا جارہا تھا۔ اس کے تعاقب میں ایک گھوڑ سوار جس کے چہرے سے جوانمردی اور بہادری عیاں تھی۔ سرپٹ گھوڑے کو بھگائے جا رہا تھا۔اچانک اس ہرن کو اللّٰہ تعالٰی نے قوت گویائی بخشی۔ اس نے سرگھما کر اپنے تعاقب میں آنے والے شکاری سے مخاطب ھو کر کہا: “اے شکاری! تم اپنے تیر میری طرف پھینکتے ھو، اور وہ شخص جو تیرے بھتیجے کو خون میں نہلانے پر آمادہ ھے، اس کی طرف اپنے تیر کیوں نہیں پھینکتے ؟ اگر تم یہ تیر اس پر چلاؤ تو میرے پیچھے بھاگنے سے بدرجہا بہتر ھے۔

شکاری نے ہرن کے یہ الفاظ سُنے تو گھوڑا روک لیا اور سخت متعجب وحیران تھا۔ ساری عمر سیروشکار میں گزری ، کبھی ایسا نہ ھوا تھا ، کہ کسی جانور نے گفتگو کی ھو۔گھوڑے کی لگام موڑی اور آہستہ آہستہ سوئے مکہ چل پڑے۔دل و دماغ میں ہرن کی گفتگو گردش کر رہی تھی۔ اسی دوران اپنے پیارے بھتیجے سیدنا محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی خیال آیا، جنہوں نے دعوت توحید کی صدا بلند کر رکھی تھی۔لیکن اس جوان شکاری کو آج تک اتنی فرصت ہی نہیں ملی تھی ، کہ شرک اور توحید کی حقانیت پر غور کرتے۔ ہرن کی گفتگو سُننے کے بعد یوں محسوس کیا جیسے حق روشن ھوتا جارہا ھے۔ انہیں سوچوں میں مستغرق جب یہ سپاہی منش نوجوان کوہ صفا کے قریب پہنچا ، تو عبداللّٰہ بن جدعان تمیمی کی ایک لونڈی جس کا وہاں مکان تھا۔ آگے بڑھ کر کہا: اے ابوعمارہ! نوجوان یہ آواز سُن کر گھوڑا روک لیا، تو وہ لونڈی قریب آکر کھڑی ھو گئی اور عرض گذار ھوئی: اےابوعمارہ: کاش! تم تھوڑی دیر پہلے تشریف لاتے اور اپنے بھتیجے کا حال دیکھتے؟ اس کی یہ حالت دیکھ کر میرا دل پارہ پارہ ھو رہا تھا۔ اس نوجوان نے جو اپنے قبیلے میں بڑا محترم تھا اس لونڈی سے دریافت کیا۔ کیاھوا؟

لونڈی عرض گذار ھوئی۔ آپ کا بھتیجا کعبۃالمکرمہ میں تبلیغ کررہا تھا۔ کہ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے بہت ایذا دی۔ لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا اور واپس چلا گیا۔

لونڈی سے یہ سُنا۔ تو نوجوان سیدنا امیرحمزہ بن عبدالمطلب رضی اللّٰہ عنہ کے جذبات بھڑک اٹھے۔ رگ حمیت میں جوش آگیا، اس سے زیادہ بات سُننے کا یارا نہ رہا۔گھوڑے کو ایڑلگائی اور تیزی سے مسجد الحرام کی طرف چلے گئے، راستے میں کسی کی طرف متوجہ نہ ھوئے۔اس وقت جوش انتقام نے آپ کو مغلوب کر رکھا تھا۔جب سیدنا امیرحمزہ رضی اللّٰہ عنہ مسجد الحرام میں پہنچے تو ابوجہل اپنے دوستوں کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا۔حضرت سیدنا امیرحمزہ رضی اللّٰہ عنہ نے اس کے قریب پہنچ کر اپنی کمان سے پےدرپے اس بدبخت کے سر پر وار کئے۔جس سے اس کا سر سات جگہ سے پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔بنی مخزوم کے کچھ لوگ ابوجہل کی حمایت میں اٹھے اور بیک زبان بولے ۔ اے حمزہ رضی اللّٰہ عنہ ! شاید تم بھی ھمارے دین سے بیزار ھو گئے ھو؟ مشرکین کی یہ بات سن کر بڑے جذبات سے فرمایا: اے مشرکین مکہ! اب جبکہ اس دین کی حقانیت مجھ پر روشن ھو گئی ھے۔ تو دنیا جہان کی کونسی چیز مجھے اب اس دین برحق سے باز رکھ سکتی ھے۔سُن لو ! اےمشرکین مکہ! میں گواہی دیتا ھوں، کہ سیدنا محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اللّٰہ تعالٰی کے رسول ہیں۔اور جو کچھ سیدنا محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں ، وہ سب حق ھے۔ پروردگارعالم کی عزت کی قسم! اب میں اس دین برحق سے پھر نہیں سکتا۔

یہ اعلان نبوت کا چھٹا سال تھا۔ جبکہ حضور سرور عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ارقم بن ارقم رضی اللّٰہ عنہ کی رہائش گاہ پر رہائش پذیر تھے۔ شمع رسالت کے پروانوں کا حلقہ احباب چند کمزور و ناتواں صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیھم اجمعین پر محدود تھا۔ حضرت سیدنا امیرحمزہ رضی اللّٰہ عنہ کے قبول اسلام سے کفارومشرکین کی دست درازیوں اور ایذا رسانیوں سے اہل حق محفوظ ھو گئے تھے ، کیونکہ مشرکین مکہ آپ کی شجاعت و جانبازی کا لوہا مانتے تھے۔ آپ ہی وہ ھستی تھے ، جنہوں نے سیدنا عمرفاروق رضی اللّٰہ عنہ کو بارگاہ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم میں شمشیربکف آتے دیکھ کر کہا تھا: اگر اےعمر (رضی اللّٰہ عنہ)! مخلصانہ آیا ھے تو بہتر ورنہ اسی تلوار سے تیرا سرقلم کردوں گا۔

وہ رضاعی اخ شاہ کون و مکان
وہ شجاعت کا لاریب کوہ گراں
وہ شہامت کا ہر رَن میں اونچا نشان
اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام
عبدالقیوم طارق

پہلا معرکہ حق و باطل

پہلا معرکہ حق و باطل میدان بدر میں 17رمضان المبارک 2 ھجری کو پیش آیا ۔ دونوں لشکر صف آرا ھوئے۔کفار کی جانب سے عتبہ، شیبہ اور ولید میدان میں اترے اور مبارزت طلب کی۔چند انصار صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنھم مقابلے کے لئے آگے بڑھے تو عتبہ نے کہا۔ اے محمد (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) ! ھمارےقابل والوں کو بھیجو۔ حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے سُنا تو ارشاد فرمایا: اے حمزہ، علی، عبیدہ (رضی اللّٰہ عنھم) اُٹھو اور آگے بڑھو۔ ارشاد نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سُننے کی دیر تھی۔ کہ تینوں بہادر اپنے نیزوں کو ہلاتے ھوئے اپنے حریفوں کے مقابل جا کھڑے ھوئے۔عتبہ کے مقابل سیدنا امیرحمزہ رضی اللّٰہ عنہ، شیبہ کے مقابل سیدنا علی المرتضٰی کرم اللّٰہ وجہہ اور ولید کے مقابل سیدنا عبیدہ بن حارث رضی اللّٰہ عنہ تھے۔حضرت سیدناامیرحمزہ رضی اللّٰہ عنہ نے پہلے وار میں ہی عتبہ کو واصل جہنم کر دیا۔ حضرت سیدنا علی کرم اللّٰہ وجہہ نے جلد ہی اپنے مقابل کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ البتہ ولید اور حضرت عبیدہ رضی اللّٰہ عنہ میں دیر تک جنگ ھوتی رہی ۔ جب حضرت سیدنا عبیدہ رضی اللّٰہ عنہ شدید زخمی ھو گئے تو حضرت سیدنا امیرحمزہ رضی اللّٰہ عنہ و سیدنا علی کرم اللّٰہ وجہہ نے آگے بڑھ کر ولید کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس کے بعد کفار نے عام ہلہ بول دیا۔ گھمسان کا رن پڑا، حضرت سیدنا امیرحمزہ رضی اللّٰہ عنہ کی دستار میں شتر مرغ کی کلغی تھی۔دو دستی حملوں سے کفار میں کھلبلی مچادی تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں دشمن بہت سے قیدی اور مال غنیمت چھوڑ کر بھاگا۔ اور کچھ قیدی پوچھنے لگے، وہ شخص کون تھا، جو سر پر کلغی لگائے ھوا تھا؟ تو انہیں بتایا گیا کہ وہ امیرحمزہ رضی اللّٰہ عنہ ھے۔ تو وہ کہنے لگے آج ھم کو سب سے زیادہ نقصان اس نے پہنچایا ھے۔

اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام
امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃاللّٰہ علیہ

دین کے شیر کی معرکہ سازیاں
تیر کی بارشیں پھر فرس تازیاں
صف اعدا پہ وہ تیغ اندازیاں
اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاںِ
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام
محمد عثمان اوج اعظم

دوسرا معرکہ حق و باطل

شوال المکرم تین ھجری میں مشرکین مکہ معرکہ بدر کا انتقام لینے کے لئے مدینہ منورہ پر چڑھائی کی غرض سے آئے۔ انفرادی قوت وجنگی ساز و سامان کی کمی نہ تھی۔ حضور تاجدار کائنات صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے سات سو جاں نثاروں کے ھمراہ مشرکین مکہ کو اُحد کے میدان میں روکا ۔ سات شوال المکرم کو جنگ کا آغاز ھوا۔سب سے پہلے سباع خزاعی نے میدان میں نکل کر مبارز طلب کی۔ حضرت سیدنا امیرحمزہ رضی اللّٰہ عنہ مقابلے پر نکلے اور پُرجوش انداز سے للکار کر فرمایا: اےسباع ! اے نجس کی اولاد، کیا تو اللّٰہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے لڑنے کے لئے آیا ھے؟ اور پھر اس پر ایسا وار کیا، کہ موت کے گھاٹ اتار کر رکھ دیا۔گھمسان کی لڑائی شروع ھو گئی۔ حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اللّٰہ عنہ دونوں ہاتھوں میں تلوار لئے دشمن کی صفوں میں گُھس جاتے اور کشتوں کے پشتے لگا دیتے، جس طرف رخ کرتے صفیں درھم برھم کر دیتے۔ اللّٰہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے شیر نے تنہا کئی مشرکین کو واصل جہنم کیا۔وحشی ایک چٹان کے پیچھے چھپا بیٹھا تھا۔ منتظر تھا ، کہ کب آپ اس طرف آئیں تاکہ اچانک حملہ کرکے شہید کردوں ، اسی اثناء میں کسی نے پوچھا۔ کہ یہ شیر کون ھے ؟ تلواروں کی کھنک میں کسی نے جواب دیا۔ یہ امیرحمزہ رضی اللّٰہ عنہ ھے۔اسی دوران آپ کا پاؤں پھسلا اور آپ پیٹھ کے بل گر پڑے اور آپ کی زرہ پیٹ سے ھٹ گئی، اسی ھنگام میں وحشی نے اپنا حربہ اس زور سے مارا کہ سیدنا امیرحمزہ رضی اللّٰہ عنہ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی شہادت پر کفار ومشرکین کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔ مشرکین کی عورتوں نے خوشی سے ترانے گائے۔ کیونکہ سب سے زیادہ کفار آپ ہی کے حملوں سے خوفزدہ تھے۔ آپ کی شہادت تین ھجری شوال المکرم کو ھوئی اور اس وقت آپ کی عمر مبارک چون برس تھی۔

اس غزوہ میں ستر مسلمانوں نے جام شہادت نوش فرمایا۔اکثر شہداء کرام رضی اللّٰہ عنھم کا مثلہ کیا گیا۔ابو سفیان کی بیوی ھند بنت عتبہ نے حضرت سیدنا امیرحمزہ رضی اللّٰہ عنہ کے کان، ناک کاٹ کر ہار بنایا اور آپ کا جگر نکال کر چبا چبا تھوک دیا۔

جب حضور سرور عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے سُنا تو ارشاد فرمایا: کیا اس نے کچھ کھایا بھی ھے؟ تو عرض کیا گیا۔ نہیں۔ تو حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللّٰہ تعالٰی حمزہ رضی اللّٰہ عنہ کے کسی بھی عضو کو دوزخ میں داخل نہیں ھونے دے گا۔

شہدائے اسلام رضی اللّٰہ عنھم کی تجہیز و تکفین شروع ھوئی ، جب اپنے پیارے چچا سیدنا امیرحمزہ رضی اللّٰہ عنہ کے جسد اطہر کا دل خراش منظر دیکھا تو دل بھر آیا اور فرمایا۔ تم پر اللّٰہ تعالٰی کی رحمت ھو، تم رشتہ داروں کا سب سے زیادہ خیال رکھتے تھے، اور نیک کاموں میں پیش پیش رھتے تھے ۔

حضرت سیدنا امیرحمزہ رضی اللّٰہ عنہ کے ساتھ اُن کے بھانجے حضرت سیدنا عبداللّٰہ بن جحش رضی اللّٰہ عنہ کو سپرد خاک کیا گیا۔

جب حضور سرور عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم واپس مدینہ منورہ تشریف لائے تو بنی عبدالاشھل کی عورتوں کو اپنے عزیز و اقارب پر روتے دیکھا تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ افسوس میرے چچا حمزہ رضی اللّٰہ عنہ کے لئے رونے والی آنکھیں نہیں ہیں۔

انصار نے سُنا تو اپنی عورتوں کو بارگاہ نبوت صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم میں بھیج دیا۔ جو سیدالشہداء امیرحمزہ رضی اللّٰہ عنہ پر گریہ زاری کرنے لگیں۔ اسی اثناء میں حضور سرور عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھ لگ گئی۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ھوئے تو ارشاد فرمایا۔ کہ رونا بند کرؤ اور آج کے بعد کسی مرنے والے پر نہ روئیں۔

یہ تمنا یہ جذبہ یہ قربانیاں
اور یہ ذوق شہادت کی بے چنیاں
کافروں کی یہ میدان میں حیرانیاں
اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیر ِ غُرّان ِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام
ڈاکٹر سید بلال

سر گروہ شہیدان حق بےگماں
وہ فلک مرتبت، وہ سپہر آستاں
شیر حق اور شیر شہِ انس و جاں
اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں
شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام
عبدالقیوم طارق

آپ کی حیات مبارکہ سے یہ سبق ملتا ھے، کہ جب حق روشن ھو جائے تو اسے فوراً تسلیم کر لینا چاھئے ۔ ھماری ساری توانائیاں دین اسلام کے لئے وقف ھونی چاھئے۔ یہی وہ پیارا دین ھے، جو اللّٰہ تعالٰی کا پسندیدہ اور ہر دور کے تقاضوں پر پورا اترتا ھے۔ اسی پر انسان گامزن ھو کر دونوں جہاں میں سرخرو ھو سکتا ھے۔

مرکز فیضان چشت سانگلہ ہل ضلع ننکانہ صاحب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں