Hafiz Bilal Mobashar 411

غیر قانونی کام نا کرنا وگرنہ اسسٹنٹ کمشنر آجائے گی

تحریر حافظ بلال مبشر

آج سے چودہ سو سال قبل اگر کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی تو اس کو زندہ درگورکرنے پر فخر محسوس کیا جاتا تھا،یہ زمانہ جاہلیت نے وہ دن بھی دیکھائے جب باپ اپنے ہاتھوں سے اپنی ساری بیٹیاں زندہ حالت میں گھڑا کھود کر خود اپنے ہاتھوں سے ان کو دفنا کر مطمئن محسوس کرتا تھالیکن پھر ہمارے پیار ے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس جہالت سے بھری دنیا میں نزول ہوااور پہلی وحی کے نزول کے بعد تو پوری دنیا کی کایا ہی پلٹ دی اور اللہ بزرگ وبرتر کا فرمان کہ

 پڑھ اپنے رب کے نام پر جس نے تم کو پیدا کیا 

اور پھر عرب جیسے ممالک میں کچھ تبدیلیاں رونماہوئیں کہ لوگوں نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ یہ ظلم بند کیا اور انہیں گھر کی زینت سمجھنا شروع کیا لیکن برصغیر پاک وہند میں ابھی بھی بہت ساری بیٹیا ں تعلیم ناہونے کی وجہ سے یاپھر جہیز کا سامان اکٹھا نا کرپانے کی وجہ سے دربدر ہیں، شادی کے انتظار میں بوڑھی ہوتی جارہی ہیں لیکن ان کے حال پر کوئی رحم نہیں کھاتا، ایسی بے شمار داستان موجود ہیں جن میں بیٹیوں کو نا پڑھانے پر اکتفا کیا جاتا ہے خاص طورپر غریب گھرانوں میں جہاں پر دووقت کی روٹی کھانا اورکمانا ہی سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے، بھائی بھی کام کرتے ہیں اور باپ بھی تگ و دو کرتے ہیں تاکہ اہل وعیال کا پیٹ بھر سکیں، یوں کئی خودکشیاں بھی ماضی میں ہم نے دیکھی ہیں جب والدین بچوں کے اوپر ہونے والے ظلم کے سامنے کھڑاہونے کی سکت نارکھتے ہوئے خود زندگی کی بازی ہارجاتے ہیں،الغرض کہ بیٹی کا پیداہونا ہی والدین کے لیے ہمارے معاشرے میں ایک بڑا مسئلہ ہے کہ اس کی خوراک،تعلیم، تربیت،جہیز،شادی کی رسومات پھر فضول رسموں کے چکر میں بیٹی کے والدین تاحیاتی اضافی اخراجات کا بوجھ اپنے کندھوں پر ڈال کر اس زمانے میں اپنی زندگی بسرکرتے ہیں، ان سب معاملات میں ایک چیز جو سب سے اہم اور نمایاں کرداراداکرتی ہے وہ تعلیم وتربیت ہے،

یوں تو میرے شہر سانگلہ ہل میں ماضی کے اندر متعدد بڑی پوزیشنز پر افسران بالا تشریف لاچکے ہیں جوکہ روایتی انداز میں اپنی خدمات سرانجام دے کر کسی اور شہر کی جانب رخ کرجاتے ہیں ان میں اکثر ایسے ہیں کہ ہم ان کو یاد کرنا بھی گوارہ نہیں کرتے کیونکہ انہوں نے صرف اپنی تنخواہ پر کام کیا ہے اور علاقے کے مسائل پر کچھ خاص توجہ نادے کر اپنی بہادی کا چرچا کیا ہے کہ ہاں میں کمزورہوں،

ویسے تو میرے گاوں چہورمغلیاں کی ایک بیٹی اور ہماری بہن بھی اسسٹنٹ کمشنر ہے لیکن میں آج بات کرنے والاہوں ایسی بہن اور ملک کی بیٹی کی جس کے والدین نے یقینی طورپر اس کی تربیت روایتی انداز سے ہٹ کرکی ہے کہ تم خود کو لڑکی سمجھ کر کمزورناپڑنا بلکہ حالات سے بھی لڑنا سیکھایا اور بتلایا کہ قانون کے آگے سب چھوٹے ہیں اور قانون سب سے بالاتر ہے، آپ کی تربیت میں والدین نے یہ ضروراضافہ کیا ہے کہ بڑوں سے پیاربھی کرنا ہے اور چھوٹوں کا احترام لیکن اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے توپھر قانون کی پاسداری ہمیشہ اولین ترجیع ہونی چاہیے،

 آپ کی چند ماہ پہلے میرے شہر یعنی سانگلہ ہل میں آمد ہوئی ہے اور آتے ہیں سب کو بتادیا ہے کہ فاطمہ جناح ؒ کے اس ملک میں آج بھی عورت طاقت ورہے، بینظیر زرداری بھٹو کی طرح نڈر اور بے باک لیڈر ہے،ڈاکٹر فہمیدہ مرزا جیسی پرعزم عورت نے پہلی خاتون سپیکر قومی اسمبلی بن کر بتایا کہ ہم عورتیں پرعزم ہونے کی علامت ہیں، ارفع کریم کی طرح نہایت قابل اور فخر وعزاز ہونے کے ساتھ ملک پاکستان کی شان ہیں، عائشہ فاروق بھی تو اپنی ہمت اور کوشش کی بل بوطے پر پاکستانی پائیلٹ بنی اور مردوں کے شانہ بشانہ حالت جنگ میں لڑنے کا ارادہ ظاہر کیا،پروفیسر زاہد اعجاز صاحبہ جو معزورہونے کے باوجود لاہورمیں خواتین کالج کی انگریزی ڈیپارٹمنٹ کی انچارج بھی رہیں اور اب تریاسی سال کی عمر میں معذور بچوں کے لیے ایک ادارہ چلارہی ہیں، رافیہ بیگ جس نے مردوں کے ساتھ بمب سکواڈ میں شامل ہوکر پوری دنیا کی خواتین کے نام پیغام دیا کہ ہم خواتین ڈرپوک نہیں ہیں، اسی طرح کی متعدد مثالیں دی جاسکتی ہیں کہ ہمارے ملک کی خواتین کس قدر بہادر ہیں۔

بہرحال بات ہورہی ہے ہمارے شہر میں تعینات اسسٹنٹ کمشنر محترمہ سمیرہ عنبرین صاحبہ کی جن کی بے باک قیادت، عزم وہمت،مسلسل جدوجہد،قانون کی پاسداری اور کسی سفارش کو ناماننے والے فیصلوں سے میرا شہر بہتری اور ترقی کی جانب بھاگ رہاہے، بات ہو وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کے احساس پروگرام کے پیسوں کی تقسیم کی تو وہاں پر اسسٹنٹ کمشنر محترمہ سمیرہ عنبرین صاحبہ بذات خود موجود ہوتی ہیں  اور معاملے کی مکمل جانچ پڑتال بھی کرتی ہیں اور قانون بھی نافذ کرواتی ہیں، بات کریں بلدیاتی کاموں کی تو آپ  اسسٹنٹ کمشنر محترمہ سمیرہ عنبرین صاحبہ کو ہر اس جگہ پر دیکھ سکیں گے جس جگہ پرکچھ بھی غیر قانونی کام ہورہاہوگا وہاں پر ہی سخت اقدامات کرتے ہوئے قانون کو عمل میں لائیں گی، ریٹ کے بڑھنے کی بات ہوتو پھر کسی کی کیا مجال کہ ریٹ بڑھاکر سانگلہ ہل میں کوئی چیز فروخت کرپائے وہ دوکان کو نوٹس کے ساتھ ہی جرمانہ یاپھر موقع کی مناسبت سے فیصلہ کردیتی ہیں (بڑے بڑے برج انہوں نے گرادیے ہیں)جس کی وجہ سے پرائس پرپوراکنٹرول ہے، بات کریں اگر ہم موجودہ حالات یعنی حالیہ لاک ڈان کی تو انہوں نے بھیس بدل بدل کر چھاپے مارکر تمام دوکانداروں کو یہ فقرہ ذہن نشین کروادیا ہے کہ اگر قانون کو نہیں مانوں گے توپھر اسسٹنٹ کمشنر محترمہ سمیرہ عنبرین صاحبہ خود آپ کے پاس آجائیں گی اور پھر جرمانہ اور اس جرم کی سزا آپ کا مقدرہوگی، شہر سانگلہ ہل کے مشہور اور مصروف ترین بازار یعنی مین بازار، کمیٹی بازار اور حمید نظامی روڈسمیت دیگر مشہورمقامی مارکیٹس مکمل ان کے کنٹرول میں ہے، قانون کے مطابق موٹر سائیکل یاپھر سائیکل ان دنوں میں مخصوص جگہوں میں اندر نہیں لے جاسکتیاور قانون کے اوپر عملدرآمدکروانے کے لیے ہر گلی اور بازار میں مکمل طورپر موٹرسائیکل کے لیے پابندی ہے اور وہاں پر رستے بلاک کردیے گئے ہیں جوکہ حالیہ دور کا سب سے بہترین اقدام ہے،آپ کی نظرمیں کوئی امیر نہیں کوئی غریب نہیں جس نے قانون کی خلاف ورزی کی اس نے سزاپائی جس نے عمل درآمدکیا اس نے تعریف پائی،

اسسٹنٹ کمشنر محترمہ سمیرہ عنبرین صاحبہ کے زیرانتظام دو بہت بڑے ادارے آتے ہیں جن میں پولیس اور بلدیہ شامل ہے اور اسسٹنٹ کمشنر محترمہ سمیرہ عنبرین صاحبہ کی آمد کے بعد یہ ادارے بھی کافی حد تک اپنی ذمہ داری نبھانے میں مصروف نظرآتے ہیں،ان کے علاوہ شہر سانگلہ ہل کے دیگر تمام ادارے اپنا کام پہلے کی نسبت کافی بہترکرنے کی کوشش میں ہیں اور ہرکوئی اپنا کام ایمانداری سے کرنے کی کوشش میں ہے کیونکہ اس کو پتا ہے کہ اگر قانو ن توڑوں گا تو پھر اسسٹنٹ کمشنر محترمہ سمیرہ عنبرین صاحبہ آجائیں گی

اللہ پاک ہماری اس بہن کی قد م بقدم مدد فرمائے اور ہر ظالم کے سامنے ڈٹ جانے اور قانون کی پاسداری کرنے میں مدد فرمائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں