150

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بخل کے متعلق فرمایا :

جو شخص اپنے مال و دولت کی زکوةادا کرتا ہے وہ بخل  سے محفوظ رہتا ہے

جس شخص میں بخل زیادہ ہوتا ہے اس میں عیب بھی زیادہ ہوجاتے ہیں

جو شخص بخل کی عادت کو اختیار کرتا ہے اس کا کوئی بھی خیر خواہ نہیں ہوتا

نیک سلوک محبت کا سبب اور بخل اظہار عیب کا سبب ہے

بخل سے آخرت میں دوزخ کا عذاب حاصل ہوتا ہے

بخیل سے کبھی سکھا نہیں اور علم کی انتہا نہیں

بخیل سے دور ہو کے رہ کہ بخیل سے بیگانوں کو دشمنی اور اپنوں کو نفرت ہوتی ہے

بخل سب عیبوں کو جمع کر لیتا ہے

اگر بخل کی صورت نظر آتی تو نہایت بد صورت کی شکل دکھائی دیتا

بخل سے پرہیز رکھے یہ ہر طرح کی کمینہ پن کے باگ ہے

بہت سے بہانے پیش کرنا بخل کی نشانی ہے

بدترین شخص وہ ہے جو بخل کا کرتہ پہنے اور ظالموں کا ساتھی بنے

بخیل شخص دنیا میں محتاج رہتا ہے اور دنیا شر اور برائی کا کھیت  ہے

طیش زندگانی کو خراب اور بخل  کینہ پیدا کرتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں