170

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بد خلقی کے متعلق فرمایا :

جو شخص بد خلق ہوتا ہے اس کو کوئی دوست اور رفیق نہیں ملتا

جو شخص بد خلق ہوتا ہے اس کے دوست اور ساتھی اسے اپنا دشمن جانتے ہیں

بد خلق نہایت برا ساتھی اور بدنیتی ایک پوشیدہ بیماری ہے

بدخلقی نفس کو وحشت میں ڈالتی اور انس و الفت کو مٹا دیتی ہے

اللہ تعالی کی قسم ہے کہ ایمان لانے کے بعد کسی ایماندار کو بدظنی بدخلقی کے سوا کسی  صورت میں عذاب نہ دے گا

بدخلقی سے آدمی کی زندگانی خراب اور جان کا عذاب ہے

بدخلقی قریبی رشتہ داروں کو متو حوش اور بیگانوں کو متنفر  کر دیتی ہے

جو شخص زیادہ نہ خوش رہتا ہے اس کے لیے کچھ نوردی اور رضامندی معلوم نہیں ہو سکتی

بد خلقی نہایت بری عادت اور اپنے محسن کے ساتھ برائی کرنا بہت بری خصلت ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں